امیرکالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی مولانا صوفی محمد کو گزشتہ سال پشاورسے گرفتارکیا گیا تھا۔ ان پر ریاستی اداروں کے خلاف سازش اور دہشت گردی کی حمایت جیسے الزامات ہیں۔ ایک سال تک زیرحراست رکھنے کے بعد خیبر پختون خوا حکومت نے صوفی محمد کو سوات کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔ 20جولائی 2010کو انہیں سوات لے جایا جانا تھا۔ تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث ایسا نہ کیا جا سکا۔ جس کے بعد سنٹرل جیل پشاور میں مقدمہ چلانے کی خبرسامنے آئی جوبعد میں غلط ثابت ہوئی۔ صوفی محمد کے علاوہ ہزاروں دیگرافراد دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار ہیں۔ جو خیبر پختون خوا کی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔
.........
/110